پیکر
معنی
١ - [ اسم مؤنث ] جسم، جسد۔ پیکر اپنی خدا نے رکھی ہے ڈانس ایک ایک جیسے مکھی ہے ( ١٨١٠ء،میر، کلیات، ١٠٠٩ ) ٢ - [ اسم مذکر ] مجسمہ، سراپا۔ "دونوں باپ بیٹوں کی رگوں میں ان کے آباو اجداد کا خون تھا جو صبرو تحمل اور ضبط ومثانت کے پیکر تھے" ( ١٩٤٣ء، سیدہ کی بیٹی، ١٥ )
اشتقاق
فارسی سے اردو میں اصل صورت و مفہوم کے ساتھ داخل ہوا۔ بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٧٠٧ء کو "کلیاتِ والی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - [ اسم مذکر ] مجسمہ، سراپا۔ "دونوں باپ بیٹوں کی رگوں میں ان کے آباو اجداد کا خون تھا جو صبرو تحمل اور ضبط ومثانت کے پیکر تھے" ( ١٩٤٣ء، سیدہ کی بیٹی، ١٥ )