چاشت

قسم کلام: اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - پہر دن چڑھے کا وقت جبکہ آفتاب بلند ہوتا ہے (تقریباً 9 بجے)، طلوع اور دوپہر کے وسط کی ساعت۔ "آسودہ حال عورتیں . اکثر آرام طلب ہوتی ہیں اور چاشت کے وقت تک سوتی رہتی ہیں۔"      ( ١٩٢٨ء، سلیم، افادت سلیم، ٢٢١ ) ٢ - حاضری، ناشتہ۔ "خیر، آج کی چاشت ہم سے روک لی گئی تو کچھ یروا نہیں۔"      ( ١٩٤٠ء، آغا شاعر، لیلئی دمشتق، ٦٢ ) ٣ - وہ نماز جو دن چڑھے ادا کی جاتی ہے۔  یہاں تو ہم نے انہیں میکدے میں دیکھا ہے کبھی قضا نہیں کرتے جو چاشت اور اشراق      ( ١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ١٢٩ )

اشتقاق

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٣٥ء کو "تحفۃ النصائح" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پہر دن چڑھے کا وقت جبکہ آفتاب بلند ہوتا ہے (تقریباً 9 بجے)، طلوع اور دوپہر کے وسط کی ساعت۔ "آسودہ حال عورتیں . اکثر آرام طلب ہوتی ہیں اور چاشت کے وقت تک سوتی رہتی ہیں۔"      ( ١٩٢٨ء، سلیم، افادت سلیم، ٢٢١ ) ٢ - حاضری، ناشتہ۔ "خیر، آج کی چاشت ہم سے روک لی گئی تو کچھ یروا نہیں۔"      ( ١٩٤٠ء، آغا شاعر، لیلئی دمشتق، ٦٢ )