چالاکی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - پھرتیلا پن، چستی۔ "ڈیل بھاری ہو گیا، چستی چالاکی جاتی رہی۔"      ( ١٩٥٦ء، بیگمات اودھ، ١٨٦ ) ٢ - تیز رفتاری، زود روی۔  وہ جست و خیز و سرعت و چالاکی کی سمند سانچے میں تھے ڈھلے ہوئے سب اس کے جوڑ بند      ( ١٨٧٤ء، انیس، مراثی، ٢٨٨:١ ) ٣ - عیاری، مکاری، دھوکہ دہی۔  نگاہ فتنہ خو کو آج تک بھولا نہیں ہوں میں وہ سفا کی وہ بے باکی وہ چالاکی وہ ناز اس کا      ( ١٩٢٧ء، شاد عظیم آبادی، میخانۂ الہام، ٩ ) ٤ - ہوشیاری، مہارت۔ "ایک میم نے بھی ایک گدھا کرایہ کیا اور اس پر نہلیت چالاکی اور خوبی سے سوار ہو کر روانہ ہوئی۔"      ( ١٨٦٩ء، مسافران لندن، ١٠٢ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ صفت 'چالاک' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے 'چالاکی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٥٤ء کو "کلیات ظفر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پھرتیلا پن، چستی۔ "ڈیل بھاری ہو گیا، چستی چالاکی جاتی رہی۔"      ( ١٩٥٦ء، بیگمات اودھ، ١٨٦ ) ٤ - ہوشیاری، مہارت۔ "ایک میم نے بھی ایک گدھا کرایہ کیا اور اس پر نہلیت چالاکی اور خوبی سے سوار ہو کر روانہ ہوئی۔"      ( ١٨٦٩ء، مسافران لندن، ١٠٢ )

اصل لفظ: چالاک
جنس: مؤنث