چانٹا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - تھپڑ، دھول، دھب۔ "پاس جو لڑکا کھڑا تھا اس کو چانٹا لگایا۔"      ( ١٩٢٧ء، عظمت، مضامین، ٨٥: ) ٢ - کشتی، حریف کی چاند یعنی کھوپڑی کے اوپر ہاتھ کے پنجے کی پوری ضرب۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 25:8)۔

اشتقاق

پراکرت زبان کے اصل لفظ 'چائے' سے ماخوذ 'چانٹا' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٧٧ء کو "توبۃ النصوح" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تھپڑ، دھول، دھب۔ "پاس جو لڑکا کھڑا تھا اس کو چانٹا لگایا۔"      ( ١٩٢٧ء، عظمت، مضامین، ٨٥: )

اصل لفظ: چاٹے
جنس: مذکر