چاول

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ایک سفید غلّہ یا دانہ جو دھان کا چھلکا دور ہونے سے برآمد ہوتا ہے نیز دھان۔ "چاول یا دھان . یہ ایک سالہ بوٹی ہے عموماً گرم ممالک میں کاشت کی جاتی ہے"      ( ١٩٦٢ء، مبادی نباتیات، ٢٥٣ ) ٢ - زیرہ یا گرمی جو کسی نبات یا کسی غلے سے نکالی جائے۔ "چڑچٹے کے چاول، کنگنی کے چاول، دھنیے کے چاول وغیرہ۔"      ( ١٨٩٥ء، فرہنگ آصفیہ، ٩٥:٢ ) ٣ - کسی میوے وغیرہ کے تراشے یا کترے ہوئے ٹکڑے۔ اس میں انگور یا انناس کے چاول یا سنترہ کی پھانک کے ٹکڑے ڈال کے . پانی میں رکھ دیں۔"      ( ١٩٤٤ء، ناشتہ، ١٥ ) ٤ - آٹھ خشخاش کے دانوں کے برابر وزن۔ (خزائن الادویہ، 331:1)

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'تنڈولن' سے ماخوذ اردو میں 'چاول' بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٦٥ء میں "عملی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ایک سفید غلّہ یا دانہ جو دھان کا چھلکا دور ہونے سے برآمد ہوتا ہے نیز دھان۔ "چاول یا دھان . یہ ایک سالہ بوٹی ہے عموماً گرم ممالک میں کاشت کی جاتی ہے"      ( ١٩٦٢ء، مبادی نباتیات، ٢٥٣ ) ٢ - زیرہ یا گرمی جو کسی نبات یا کسی غلے سے نکالی جائے۔ "چڑچٹے کے چاول، کنگنی کے چاول، دھنیے کے چاول وغیرہ۔"      ( ١٨٩٥ء، فرہنگ آصفیہ، ٩٥:٢ ) ٣ - کسی میوے وغیرہ کے تراشے یا کترے ہوئے ٹکڑے۔ اس میں انگور یا انناس کے چاول یا سنترہ کی پھانک کے ٹکڑے ڈال کے . پانی میں رکھ دیں۔"      ( ١٩٤٤ء، ناشتہ، ١٥ )

اصل لفظ: تَنْڈولَن
جنس: مذکر