چاپلوسی
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - خوشامد، چرب زبانی، مطلب نکالنے کے لیے تعریف کرنے کا عمل۔ "لڑ جھگڑ کر، خوشامد سے، چاپلوسی سے، غرض ہر طرح کام نکال لیتے ہیں۔" ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ١٧٧ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت چاپلوس کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ کیفیت لگنے سے چاپلوسی بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٤٩ء میں "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - خوشامد، چرب زبانی، مطلب نکالنے کے لیے تعریف کرنے کا عمل۔ "لڑ جھگڑ کر، خوشامد سے، چاپلوسی سے، غرض ہر طرح کام نکال لیتے ہیں۔" ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ١٧٧ )
اصل لفظ: چاپلوس
جنس: مؤنث