چراغاں

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - بہت سے چراغ ایک ساتھ جلنے کا عمل، بہت سے چراغوں کی یکجا روشنی، قطار در قطار جلتے ہوئے چراغ۔  گھر میں تو روشن رہا کرتے ہیں اشکوں کے چراغ مرقد عاشق پہ بھی ایک دن چراغاں کیجئے      ( ١٩٤٠ء، بیخود، کلیات، ٩٦ ) ٢ - چراغ کی جمع۔  جتے عالماں کے چراغاں تے نور ہوا محو نکلے پہ تجھ ذات سور      ( ١٦٥٧ء، گلشن عشق، ١٢ )

اشتقاق

فارسی سے ماخوذ لفظ 'چراغ' کے ساتھ 'اں' لاحقۂ نسبت لگانے سے اردو میں چراغاں بنا اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٥٧ء میں "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: چَراغ
جنس: مذکر