چرچا

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - لگاتار ذکر، عام تذکرہ، عام خبر، شہرت؛ ذکر اذکار؛ بیان و اظہار۔ "اخباروں میں اس کا چرچا مناسب نہیں معلوم ہوتا۔"      ( ١٩٣٥ء، مکاتیب اقبال، ٣٦٨:١ ) ٢ - رواج؛ ذوق و شوق؛ دستور عام، غلبہ؛ مشغلہ۔ "لکھنے پڑھنے کا چرچا نہ ہونے کی وجہ سے لوگ صرف یادداشتوں پر اعتقاد کرتے تھے۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق والفرائض، ١٤:٢ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'چرچکہ' سے ماخوذ اردو میں 'چَرْچا' بنا جو بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٩٧ء میں "دیوانِ ہاشمی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - لگاتار ذکر، عام تذکرہ، عام خبر، شہرت؛ ذکر اذکار؛ بیان و اظہار۔ "اخباروں میں اس کا چرچا مناسب نہیں معلوم ہوتا۔"      ( ١٩٣٥ء، مکاتیب اقبال، ٣٦٨:١ ) ٢ - رواج؛ ذوق و شوق؛ دستور عام، غلبہ؛ مشغلہ۔ "لکھنے پڑھنے کا چرچا نہ ہونے کی وجہ سے لوگ صرف یادداشتوں پر اعتقاد کرتے تھے۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق والفرائض، ١٤:٢ )

اصل لفظ: چرچکہ
جنس: مذکر