چرکا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ہلکا زخم یا خراش، معمولی گھاؤ، ہلکا سا کٹاؤ، ضرر نقصان۔ "زخم مہلک نہ تھا محض ایک چرکا تھا۔"      ( ١٩٣٦ء، پریم چند، پریم پچیسی، ١٢٩:١ ) ٢ - صدمہ، تکلیف، ایذا۔ "وہ دشمن کا کامیاب ہو جانا وہ اپنی بے بسی . یہ ایسے چرکے نہ تھے جو فون کے آنسو نہ دلواتے۔"      ( ١٩٢٤ء، اختری بیگم، ١٦ )

اشتقاق

سنسکرت کے اصل لفظ 'چترک+کن' سے ماخوذ 'چرکا' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ہلکا زخم یا خراش، معمولی گھاؤ، ہلکا سا کٹاؤ، ضرر نقصان۔ "زخم مہلک نہ تھا محض ایک چرکا تھا۔"      ( ١٩٣٦ء، پریم چند، پریم پچیسی، ١٢٩:١ ) ٢ - صدمہ، تکلیف، ایذا۔ "وہ دشمن کا کامیاب ہو جانا وہ اپنی بے بسی . یہ ایسے چرکے نہ تھے جو فون کے آنسو نہ دلواتے۔"      ( ١٩٢٤ء، اختری بیگم، ١٦ )

اصل لفظ: چترک+کن
جنس: مذکر