چستی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - چالاکی، پھرتی، تیزی۔ "ہل جوتے میں پہلے سے زیادہ چستی و چالاکی دکھائے گی۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٢١ ) ٢ - موزونیت، درستی، بندش اور ترتیب کی مناسبت۔ "بندش کی چستی ایک وجدانی چیز ہے۔"      ( ١٩١٤ء، شبلی، حسیات حافظ، ٥١ ) ٣ - تنگی، کھچاوٹ، مضبوطی، استحکام۔ "ہمارا جسم فولادی لباس میں ایک ایسی چستی کے ساتھ نظر پڑا جس کے لیے مان لیا گیا کہ تیار ہونے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔"      ( ١٩٣٦ء، ریاض، نثر ریاض، ١٩١ )

اشتقاق

فارسی سے ماخوذ 'چست' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت و نسبت لگانے سے 'چستی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٧٨ء کو "کلیات غواصی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - چالاکی، پھرتی، تیزی۔ "ہل جوتے میں پہلے سے زیادہ چستی و چالاکی دکھائے گی۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٢١ ) ٢ - موزونیت، درستی، بندش اور ترتیب کی مناسبت۔ "بندش کی چستی ایک وجدانی چیز ہے۔"      ( ١٩١٤ء، شبلی، حسیات حافظ، ٥١ ) ٣ - تنگی، کھچاوٹ، مضبوطی، استحکام۔ "ہمارا جسم فولادی لباس میں ایک ایسی چستی کے ساتھ نظر پڑا جس کے لیے مان لیا گیا کہ تیار ہونے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔"      ( ١٩٣٦ء، ریاض، نثر ریاض، ١٩١ )

اصل لفظ: چست
جنس: مؤنث