چسپاں

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - ٹھیک، موزوں، چست، منطبق۔ "سہیلی اپنی ہم جولی سے ذو معنی بات کہتی ہے جو ساجن پر بھی چسپاں ہوتی ہے"      ( ١٩٨٣ء، نذر خسرو، ٢٤ ) ٢ - چپکا ہوا، چسپیدہ، ملا ہوا۔ "کتاب کھولی تو ورق باہم چسپاں پائے"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٦٢ ) ٣ - پیوستہ، متصلی۔ "سکھوں کے گردوارے سے چسپاں ایک مسجد تھی"      ( ١٩٢٢ء، دلی کی جاں کنی، ٨٤ )

اشتقاق

فارسی زبان کے مصدر 'چسپیدن' سے اسم فاعل 'چسپاں' بنا۔ جو کہ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٦٩٥ء میں "دپیک پتنگ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ٹھیک، موزوں، چست، منطبق۔ "سہیلی اپنی ہم جولی سے ذو معنی بات کہتی ہے جو ساجن پر بھی چسپاں ہوتی ہے"      ( ١٩٨٣ء، نذر خسرو، ٢٤ ) ٢ - چپکا ہوا، چسپیدہ، ملا ہوا۔ "کتاب کھولی تو ورق باہم چسپاں پائے"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٦٢ ) ٣ - پیوستہ، متصلی۔ "سکھوں کے گردوارے سے چسپاں ایک مسجد تھی"      ( ١٩٢٢ء، دلی کی جاں کنی، ٨٤ )

اصل لفظ: چَسْپِیدَن