چسکا

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - مزہ، چاٹ۔ "یار باشی میں تو وہ مزا ہے کہ جہاں اس کا چسکا پڑا پھر نہیں چھوٹتا"      ( ١٩٠٠ء، شریف زادہ، ١٢١ ) ٢ - لت، عادت۔ "ملا صاحب کو مانگنے کا ایسا زبردست چسکا پڑ گیا تھا کہ ہر چند چاہا کہ نہ مانگوں مگر باز نہ رہ سکے"      ( ١٩٢٥ء، حکایات لطفیہ، ٧١:١ ) ٣ - ذوق، شوق؛ لطف۔ "تحقیق کا چسکا شروع ہی سے تھا"      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٣٥٣ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'چست' سے ماخوذ اردو میں 'چسکا' بنا اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٧٩ء میں "دیوان شاہ سلطان ثانی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مزہ، چاٹ۔ "یار باشی میں تو وہ مزا ہے کہ جہاں اس کا چسکا پڑا پھر نہیں چھوٹتا"      ( ١٩٠٠ء، شریف زادہ، ١٢١ ) ٢ - لت، عادت۔ "ملا صاحب کو مانگنے کا ایسا زبردست چسکا پڑ گیا تھا کہ ہر چند چاہا کہ نہ مانگوں مگر باز نہ رہ سکے"      ( ١٩٢٥ء، حکایات لطفیہ، ٧١:١ ) ٣ - ذوق، شوق؛ لطف۔ "تحقیق کا چسکا شروع ہی سے تھا"      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٣٥٣ )

اصل لفظ: چش
جنس: مذکر