چسکی

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - گھونٹ، جرعہ، کش۔ "خوب پیے ہوئے تھے اس پر بھی بار بار جیب سے فلاسک نکال کر پیٹھ موڑ کر چسکی لگائے جارہے تھے"      ( ١٩٦٢ء، معصومہ، ٤٢ ) ٢ - گھونٹ گھونٹ پینے کا عمل؛ مزہ لے لے کر پینا۔  چسکی لی تو بات ہے کل کی آنکھ میں میری گھس گئی نلکی      ( ١٩٨٥ء، پھول کھلے ہیں رنگ برنگے، ٤٠ ) ٣ - ذراسی افیون جو افیمی خلاف وقت کھا پی لیتے ہیں۔ "دوسری چیز افیم تھی، وہ اس کی صبح شام چسکی ضرور لگاتے"      ( ١٩٥٤ء، ہمار گاؤں، ١٥٥ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کا لفظ 'چوش + ک + اکا' سے ماخوذ اردو میں چُسکی' بنا اور بوطر اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٥١ء میں "نوادرالالفاظ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گھونٹ، جرعہ، کش۔ "خوب پیے ہوئے تھے اس پر بھی بار بار جیب سے فلاسک نکال کر پیٹھ موڑ کر چسکی لگائے جارہے تھے"      ( ١٩٦٢ء، معصومہ، ٤٢ ) ٣ - ذراسی افیون جو افیمی خلاف وقت کھا پی لیتے ہیں۔ "دوسری چیز افیم تھی، وہ اس کی صبح شام چسکی ضرور لگاتے"      ( ١٩٥٤ء، ہمار گاؤں، ١٥٥ )

اصل لفظ: چوش+ک+اکا
جنس: مؤنث