چشمک

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - عینک، چشمہ۔ "اس باطن کے پانچ، سو ہیچ ظاہر کے پانچہ ہیں، جوں چشمک آنکھ کو لائیے تو پیلاڑ دیکھتی۔"      ( ١٦٠٣ء، شرح تمہیدات ہمدانی، (قلمی نسخہ)، ٢١٠ ) ٢ - آنکھ کا اشارہ؛ کنکھی؛ آنکھڑی؛ لمحہ بھر؛ پلکوں کی جھپک؛ پل بھر۔  کبھی ہے چشمک گل میں پیام بیداری کبھی وداع شکیب و قرار کیا کہنا      ( ١٩٤٢ء، عروس فطرت، ٣٧ ) ٣ - چھیڑ چھاڑ، طعن و تشنیع، نوک جھونک۔  بجلیوں سے جہاں نہ ہو چشمک اس گلستان میں آشیاں نہ بنا      ( ١٩٥٥ء، مجاز، آہنگ، ٦٣ ) ٤ - نظربازی۔  کیا ہو گئی خود بینی اب غیر سے چشمک ہے یا خوش نگہی وہ کچھ یا بد نظری اتنی      ( ١٨٥١ء، مومن، کلیات، ١٤٤ ) ٥ - رکاوٹ، جھجک۔ "پتے کی بات پر کسی کی چشمک کسی کے رخساروں پر جھیپنے سے خون کی جھلک۔"      ( ١٩١٥ء، سجاد حسین، حاجی بغلول، ٦ ) ٦ - رنجش، مخالفت۔  ہے آبلوں سے خار کو چشمک، تو ہو چلتے رہو جب تک ہے اثر دم میں دم      ( ١٩٤٧ء، لالہ و گل، ٢١ ) ٧ - چھوٹی آنکھ؛ (حشریات) کیڑوں کی اکہری آنکھ، مرکب آنکھ کا ایک دیدہ، ذیلی آنکھ۔ "عام طور پر ہر آنکھ تین چشمکوں پر مشتمل ہے . چشمکوں میں سے دو ظہری ہوتی ہیں اور اوپر کے جانب دیکھتی ہیں۔"      ( ١٩٦٩ء، قشریہ، ٥٧ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ 'چشم' کے ساتھ 'ک' بطور لاحقۂ تصغیر و کیفیت لگانے سے اردو میں 'چشمک' بنا اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٠٣ء کو "شرح تمہیدات ہمدانی (ق)" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عینک، چشمہ۔ "اس باطن کے پانچ، سو ہیچ ظاہر کے پانچہ ہیں، جوں چشمک آنکھ کو لائیے تو پیلاڑ دیکھتی۔"      ( ١٦٠٣ء، شرح تمہیدات ہمدانی، (قلمی نسخہ)، ٢١٠ ) ٥ - رکاوٹ، جھجک۔ "پتے کی بات پر کسی کی چشمک کسی کے رخساروں پر جھیپنے سے خون کی جھلک۔"      ( ١٩١٥ء، سجاد حسین، حاجی بغلول، ٦ ) ٧ - چھوٹی آنکھ؛ (حشریات) کیڑوں کی اکہری آنکھ، مرکب آنکھ کا ایک دیدہ، ذیلی آنکھ۔ "عام طور پر ہر آنکھ تین چشمکوں پر مشتمل ہے . چشمکوں میں سے دو ظہری ہوتی ہیں اور اوپر کے جانب دیکھتی ہیں۔"      ( ١٩٦٩ء، قشریہ، ٥٧ )

اصل لفظ: چشم
جنس: مؤنث