چغتائی

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - چنگیز خان کے بیٹے چغتا کی نسل سے منسوب؛ ایک ترکی قبیلہ اور اس کے بادشاہ کا نام۔ "چغتائی خانوں کیدو اور دوا نے اسے ازسر نو تعمیر کرایا۔"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٣٢:٣ ) ٢ - چغتائی قبیلے اور نسل سے منسوب زبان۔ "فارسی کے علاوہ ترکی، چغتائی اور ہندوستانی زبانوں میں اس کے تتبع میں بہت سی مثنویاں لکھی گئی ہیں۔"      ( ١٩٥٥ء، اختر جونا گڑھی، مقالات، ١١٤ )

اشتقاق

ترکی زبان سے اسم معرفہ 'چغتا' کے ساتھ 'ئی' لاحقۂ نسبت لگانے سے 'چغتائی' بنا۔ ١٨٩٧ء کو "تاریخ ہندوستان" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - چنگیز خان کے بیٹے چغتا کی نسل سے منسوب؛ ایک ترکی قبیلہ اور اس کے بادشاہ کا نام۔ "چغتائی خانوں کیدو اور دوا نے اسے ازسر نو تعمیر کرایا۔"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٣٢:٣ ) ٢ - چغتائی قبیلے اور نسل سے منسوب زبان۔ "فارسی کے علاوہ ترکی، چغتائی اور ہندوستانی زبانوں میں اس کے تتبع میں بہت سی مثنویاں لکھی گئی ہیں۔"      ( ١٩٥٥ء، اختر جونا گڑھی، مقالات، ١١٤ )

اصل لفظ: چُغْتا
جنس: مذکر