چلو

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ہاتھ کی انگلیوں کو ملا کر ہتھیلی کی مدد سے گڑھا سا بنا لینا جس میں کوئی رقیق چیز آ سکے۔" "آنحضرتۖ وضو کر رہے تھے وضو کا پانی جو دست مبارک سے گرتا فدائی برکت کے خیال سے اس کو چلو میں لے لے کر بدن میں مل لیتے۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبی، ٣٣٨:٢ ) ٢ - چلو بھر وزن یا مقدار؛ تھوڑا سا۔  چلو بھر میں متوالی دوہی گھونٹ میں خالی یہ بھری جوانی کیا جذبۂ لبالب کیا      ( ١٨٥٧ء، یاس یگانہ، گنجینہ، ١٣ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ'چلکہ' سے ماخوذ اردو میں 'چلو' بنا اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٤٣ء کو "دیوان رند" میں مستعمل ہے۔

مثالیں

١ - ہاتھ کی انگلیوں کو ملا کر ہتھیلی کی مدد سے گڑھا سا بنا لینا جس میں کوئی رقیق چیز آ سکے۔" "آنحضرتۖ وضو کر رہے تھے وضو کا پانی جو دست مبارک سے گرتا فدائی برکت کے خیال سے اس کو چلو میں لے لے کر بدن میں مل لیتے۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبی، ٣٣٨:٢ )

اصل لفظ: چُلُّکہ
جنس: مذکر