چمچا

قسم کلام: اسم آلہ

معنی

١ - ایک برتن سے دوسرے برتن میں نکالنے یا کوئی غذا (عموماً رقیق) کھانے پینے کا آلہ (جس کی شکل عموماً سیپ کی سی ہوتی ہے اور اس میں حسب ضرورت دستہ بھی ہوتا ہے کئی سائز اور کئی طرح کا ہوتا ہے بڑے چمچے سے عموماً سالن چلانے یا نکالنے کا کام لیا جاتا ہے، اگر یہ لکڑی کا ہو تو اسے ڈوئی کہتے ہیں)۔ "ایک بار مجلس میں چمچہ کو چمچ کہہ دیا، مولانا کی طبع نازک پر یہ لفظ اتنا گراں گزرا کہ فوراً محفل برخاست کی"      ( ١٩٥٦ء، حکمائے اسلام، ١٩٥:٢ ) ٢ - ہاں میں ہاں ملانے یا جی حضوری کرنے والا شخص، خوشامدی۔ "اگر خود اس کی جان کو چمچے نہ لگ گئے ہوتے تو شاید اور کچھ دن عیش کر لیتا"      ( ١٩٦٢ء، معصومہ، ٢٣ ) ٣ - [ دندان سازی ]  مصنوعی دانت یا بتیسی بنانے کا سانچہ۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 113:7)

اشتقاق

ترکی زبان کے لفظ 'چمچہ' سے ماخوذ اردو میں 'چمچ' بنا اور الف لاحقۂ تکبیر لگانے سے 'چمچا' بنا اور ایک امکان یہ بھی ہے کہ فارسی سے اردو میں آیا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٦٥ء کو "علی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ایک برتن سے دوسرے برتن میں نکالنے یا کوئی غذا (عموماً رقیق) کھانے پینے کا آلہ (جس کی شکل عموماً سیپ کی سی ہوتی ہے اور اس میں حسب ضرورت دستہ بھی ہوتا ہے کئی سائز اور کئی طرح کا ہوتا ہے بڑے چمچے سے عموماً سالن چلانے یا نکالنے کا کام لیا جاتا ہے، اگر یہ لکڑی کا ہو تو اسے ڈوئی کہتے ہیں)۔ "ایک بار مجلس میں چمچہ کو چمچ کہہ دیا، مولانا کی طبع نازک پر یہ لفظ اتنا گراں گزرا کہ فوراً محفل برخاست کی"      ( ١٩٥٦ء، حکمائے اسلام، ١٩٥:٢ ) ٢ - ہاں میں ہاں ملانے یا جی حضوری کرنے والا شخص، خوشامدی۔ "اگر خود اس کی جان کو چمچے نہ لگ گئے ہوتے تو شاید اور کچھ دن عیش کر لیتا"      ( ١٩٦٢ء، معصومہ، ٢٣ )

اصل لفظ: چَمْچَہ
جنس: مذکر