چمڑا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - کھال، پوست (جو کمایا ہوا نہ ہو)۔ "وہ کھوپریاں زرد ہوگئی تھیں ان پر چمڑے کا کہیں نام بھی نہیں تھا"      ( ١٩٤٠ء، آغا شاعر، خمارستان، ١٨٢ ) ٢ - وہ کھال جو کمائی ہوئی ہو، چرم۔ "ابن حشام نے لکھا ہے کہ مکہ کا بڑا تحفہ چمڑا تھا"      ( ١٩١١ء، سیرۃ النبی، ٢٢٠:١ ) ٣ - کسی چیز کی بالائی سطح، اوپری جلد۔ "جن لوگوں کی ختنے نہیں ہوئی ہے ان کو روز چاہیے کہ حشفے کے اوپر کے چمڑے کو الٹا کر ضرور دھو لیں"      ( ١٩١١ء، نشاط عمر، ٨٢ ) ٤ - جانوروں کی جھلی جو مختلف کاموں میں استعمال کی جاتی ہے۔ "چینی کاغذ . ہرن کے چمڑے کی طرح نرم اور چکنا ہوتا"      ( ١٩٥٨ء، ہندوستان کے عہد وسطٰی کی ایک جھلک، ٣٩٤ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'چرم + ر + کہ' سے ماخوذ اردو میں 'چمڑا' بنا اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٣٩ء کو "طوطی نامہ، غواصی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کھال، پوست (جو کمایا ہوا نہ ہو)۔ "وہ کھوپریاں زرد ہوگئی تھیں ان پر چمڑے کا کہیں نام بھی نہیں تھا"      ( ١٩٤٠ء، آغا شاعر، خمارستان، ١٨٢ ) ٢ - وہ کھال جو کمائی ہوئی ہو، چرم۔ "ابن حشام نے لکھا ہے کہ مکہ کا بڑا تحفہ چمڑا تھا"      ( ١٩١١ء، سیرۃ النبی، ٢٢٠:١ ) ٣ - کسی چیز کی بالائی سطح، اوپری جلد۔ "جن لوگوں کی ختنے نہیں ہوئی ہے ان کو روز چاہیے کہ حشفے کے اوپر کے چمڑے کو الٹا کر ضرور دھو لیں"      ( ١٩١١ء، نشاط عمر، ٨٢ ) ٤ - جانوروں کی جھلی جو مختلف کاموں میں استعمال کی جاتی ہے۔ "چینی کاغذ . ہرن کے چمڑے کی طرح نرم اور چکنا ہوتا"      ( ١٩٥٨ء، ہندوستان کے عہد وسطٰی کی ایک جھلک، ٣٩٤ )

اصل لفظ: چرم+ر+کہ
جنس: مذکر