چنانچہ

قسم کلام: متعلق فعل

معنی

١ - اس طرح سے، اس طور سے، حالانکہ۔  آشنائے کفرو دیں عاشق نہیں ہوتے ہیں میر جانتے ہیں طور میرے سب چنانچہ خورد و پیر      ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ١٤٤٢ ) ٢ - مثلاً، جیساکہ۔ "ان حرفوں میں سے تین حرف چنانچہ ا، و، ی کو حروف علت کہتے ہیں۔"      ( ١٨٥٥ء، تعلیم الصبیان، ٢١ ) ٣ - اس لیے، اس وجہ سے، آخر کار۔  چنانچہ ایک دن اوس شوخ بے وفا سے اجی جو میں نے پوچھا وفا بھی کسی سے کی ہے کبھی      ( ١٨٧٠ء، الماس درخشاں، ٣٨٨ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ 'چوں+آں' کا مرکب 'چناں' کے ساتھ 'چہ' ضمیر استفہام لگانے سے 'چنانچہ' بنا۔ اردو میں بطور متعلق فعل استعمال ہوتا ہے۔ ١٧١٨ء کو "دیوان آبرو" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - مثلاً، جیساکہ۔ "ان حرفوں میں سے تین حرف چنانچہ ا، و، ی کو حروف علت کہتے ہیں۔"      ( ١٨٥٥ء، تعلیم الصبیان، ٢١ )