چنبل
معنی
١ - کاسۂ گدائی، بھیک کا پیالہ، کشکول گدائی۔ میری جھولی بھر دے میرا چنبل بھر دے ( ١٩١٣ء، سی پارۂ دل، ١١ ) ٢ - حقہ کا سرپوش، چلم کا گھیر یا اوپر کا پھیلا ہوا حصہ جس میں آگ رکھی جاتی ہے۔ (ان معنوں میں چنبل بضم چ بھی بولتے ہیں)، چنبر۔ "ملازم پیچوان لے کر حاضر ہو گیا جس کی فرشی نقرئی تھی . اور چنبل کے چاروں طرف چاندی کی زنجیریں لٹک رہی تھیں۔" ( ١٩٦٣ء، دلی کی شام، ٢٤٧ ) ٣ - داد اور خارش کی طرح کا ایک جلدی مرض جس میں سرخ و سفید چتیاں بدن پر پڑ جاتی ہیں، گول داغ دھبوں کی بیماری۔ "اب وہ تھا اور اس کے اردگرد . داد، چنبل اور خارش۔" ( ١٩٦٢ء، آفت کا ٹکڑا، ٣٣٥ )
اشتقاق
فارسی زبان میں لفظ'چنبر' اردو میں 'چنبل' بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٧٧ء کو "کلیات قلق" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - حقہ کا سرپوش، چلم کا گھیر یا اوپر کا پھیلا ہوا حصہ جس میں آگ رکھی جاتی ہے۔ (ان معنوں میں چنبل بضم چ بھی بولتے ہیں)، چنبر۔ "ملازم پیچوان لے کر حاضر ہو گیا جس کی فرشی نقرئی تھی . اور چنبل کے چاروں طرف چاندی کی زنجیریں لٹک رہی تھیں۔" ( ١٩٦٣ء، دلی کی شام، ٢٤٧ ) ٣ - داد اور خارش کی طرح کا ایک جلدی مرض جس میں سرخ و سفید چتیاں بدن پر پڑ جاتی ہیں، گول داغ دھبوں کی بیماری۔ "اب وہ تھا اور اس کے اردگرد . داد، چنبل اور خارش۔" ( ١٩٦٢ء، آفت کا ٹکڑا، ٣٣٥ )