چنڈال

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - رذیل، کمینہ، فرومایہ (ذات، حالات اور طرز زندگی وغیرہ کے اعتبار سے)۔ "چاروں ورنوں کے علاوہ پانچویں ورن کا بھی ذکر ملتا ہے جس میں نشاد، چنڈال اور پلراس شامل تھے"۔      ( ١٩٧٥ء، ہندوستانی تہذیب کا مسلمانوں پر اثر، ٦٣ ) ٢ - نیچ ذات کا، پلید۔ "ہم دونوں کو چنڈال کا بھیس بنا کر چندن داس کو قتل گاہ میں لے جانا ہی پڑے گا"۔      ( ١٩٥٥ء، مدرا راکھشش (ترجمہ)، ٢٣٠ ) ٣ - بدکار، مکار، دھوکا باز، ظالم۔ "ناہنجار، خلائی خوار، چنڈال، بدکار کیا بک بک کرتا ہے، بے حیا ڈوب نہیں مرتا"      ( ١٩٠١ء، عشق و عاشقی کا گنجینہ، ٦٤ ) ٤ - بدنصیب، بدبخت، منحوس۔ "ناکارہ، چنڈال، بدقسمت، بدنصیب"۔      ( ١٩١٥ء، مرقع زبان و بیان دہلی، ٧ )

اشتقاق

سنسکرت میں بالکل اسی طرح مستعمل ہے وہاں سے اردو زبان میں داخل ہوا اور ١٤٣٥ء میں "کدم راو پدم راو" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - رذیل، کمینہ، فرومایہ (ذات، حالات اور طرز زندگی وغیرہ کے اعتبار سے)۔ "چاروں ورنوں کے علاوہ پانچویں ورن کا بھی ذکر ملتا ہے جس میں نشاد، چنڈال اور پلراس شامل تھے"۔      ( ١٩٧٥ء، ہندوستانی تہذیب کا مسلمانوں پر اثر، ٦٣ ) ٢ - نیچ ذات کا، پلید۔ "ہم دونوں کو چنڈال کا بھیس بنا کر چندن داس کو قتل گاہ میں لے جانا ہی پڑے گا"۔      ( ١٩٥٥ء، مدرا راکھشش (ترجمہ)، ٢٣٠ ) ٣ - بدکار، مکار، دھوکا باز، ظالم۔ "ناہنجار، خلائی خوار، چنڈال، بدکار کیا بک بک کرتا ہے، بے حیا ڈوب نہیں مرتا"      ( ١٩٠١ء، عشق و عاشقی کا گنجینہ، ٦٤ ) ٤ - بدنصیب، بدبخت، منحوس۔ "ناکارہ، چنڈال، بدقسمت، بدنصیب"۔      ( ١٩١٥ء، مرقع زبان و بیان دہلی، ٧ )

جنس: مذکر