چنگھاڑ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ہاتھی کی آواز۔ "اس میں اور ہاتھی کی چنگھاڑ میں کسی قسم کی کا فرق رہتا ہے? کچھ نہیں"      ( ١٩٣٥ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ٢٠، ٥:٣٩ ) ٢ - نالہ وفریاد کی آواز، چیخ پکار، شور و غوغا، اونچی آواز، چلاہٹ۔ "وہ دلیل کی جگہ چنگھاڑ سے اگلے کو قائل کر لیتے"      ( ١٩٨١ء، راجہ گدھ، ١٦ ) ٣ - مہیب آواز، خوفناک آواز۔ "تم پر ایک چنگھاڑ کا عذاب نازل ہو گا یعنی ایک آتشی چنگھاڑ کہ کان کے پردے پھٹ جائیں گے اور مر جاؤ گے"      ( ١٩٣٤ء، قرآنی قصے، ١٠٣ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'چتکار' سے ماخوذ اردو میں 'چنگھاڑ' بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٨٣ء کو "طلائع المقدور" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ہاتھی کی آواز۔ "اس میں اور ہاتھی کی چنگھاڑ میں کسی قسم کی کا فرق رہتا ہے? کچھ نہیں"      ( ١٩٣٥ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ٢٠، ٥:٣٩ ) ٢ - نالہ وفریاد کی آواز، چیخ پکار، شور و غوغا، اونچی آواز، چلاہٹ۔ "وہ دلیل کی جگہ چنگھاڑ سے اگلے کو قائل کر لیتے"      ( ١٩٨١ء، راجہ گدھ، ١٦ ) ٣ - مہیب آواز، خوفناک آواز۔ "تم پر ایک چنگھاڑ کا عذاب نازل ہو گا یعنی ایک آتشی چنگھاڑ کہ کان کے پردے پھٹ جائیں گے اور مر جاؤ گے"      ( ١٩٣٤ء، قرآنی قصے، ١٠٣ )

اصل لفظ: چتکار
جنس: مؤنث