چنگھاڑنا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - ہاتھی کا چیخنا۔  جو چنگھاڑتے ہیں یہ فیلان مست گرجتے ہیں مے خانے میں مے پرست      ( ١٩٣٢ء، بے نظیر، کلام بے نظیر، ٣٣٢ ) ٢ - چنگھاڑ مارنا۔  پھر تو میں چنگاڑتی ہوں خوفناک انداز میں موت کی آواز ہوتی ہے مری آواز میں      ( ١٩٣٣ء، سیف و سبو، ٣٣ ) ٣ - شور مچانا، چلانا۔ "بڑے بڑے لاؤڈ اسپیکر پر انسانی آوازیں گرجتی اور چنگھاڑتی ہیں"      ( ١٩٨٠ء، ماس اور مٹی، ١٢ ) ٤ - مور اور جھینگر وغیرہ کا تیز آواز نکالنا۔ "چمن میں مور چنگھاڑتے صحرا میں نعرے مارتے"      ( ١٨٨٨ء، طلسم ہوس ربا، ٦٤:٣ ) ٥ - چیخنا، دہاڑنا، خوفناک آواز نکالنا۔ "نام کو تو شیر ہے پر سوائے مور کی طرح اترا اترا کر ناچنے اور چنگھاڑنے کے اس کو آتا ہی کیا ہے"      ( ١٩٠٠ء، زلفی، ٣٤ )

اشتقاق

چتکار  چِنْگھاڑ  چِنْگھاڑْنا

مثالیں

٣ - شور مچانا، چلانا۔ "بڑے بڑے لاؤڈ اسپیکر پر انسانی آوازیں گرجتی اور چنگھاڑتی ہیں"      ( ١٩٨٠ء، ماس اور مٹی، ١٢ ) ٤ - مور اور جھینگر وغیرہ کا تیز آواز نکالنا۔ "چمن میں مور چنگھاڑتے صحرا میں نعرے مارتے"      ( ١٨٨٨ء، طلسم ہوس ربا، ٦٤:٣ ) ٥ - چیخنا، دہاڑنا، خوفناک آواز نکالنا۔ "نام کو تو شیر ہے پر سوائے مور کی طرح اترا اترا کر ناچنے اور چنگھاڑنے کے اس کو آتا ہی کیا ہے"      ( ١٩٠٠ء، زلفی، ٣٤ )

اصل لفظ: چتکار