چور

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - چُورا۔  بس اک ہمیں ہیں ڈھول میں پول اور خدا کا نام بسکٹ کا صرف چور ہے لمنڈ کا پھین ہے      ( ١٩٢١ء، اکبر، کلیات، ١٥٠:٢ ) ١ - ریزہ ریزہ، ٹکڑے ٹکڑے۔ "نصیر نے گلاس خالی کر کے برج موہن کے گلاس پر دے مارا، دونوں ایک چھناکے کے ساتھ چور ہو گئے۔"      ( ١٩٥٤ء، شاید کہ بہار آئی، ٢٦ ) ٢ - مست، سرشار، غرق، محو، منہمک۔ "ایک بہت ہی ذہین و عالم ہے اور علم کے غرور میں چور۔"      ( ١٩١٣ء، تمدن ہند، ١٣٨ ) ٣ - نشے میں دھت، بدمست، مدہوش، مخمور۔  عجیب چیز ہے مے خانۂ تصور بھی یہاں سے ہوش میں پہنچے وہاں سے چور آئے      ( ١٩٣٤ء، شعلۂ طور، ٨٩ ) ٤ - نڈھال، کمزور، تھکا ماندہ۔ "وہ سرنگا پٹم کے دروازے پر زخموں سے چور نقش بے جاں ہو کر گرا۔"      ( ١٩٤٦ء، شیرانی، مقالات، ١٨ ) ٥ - بہت زیادہ، حد درجہ۔ "ان دونوں بے رحموں نے بخاطر جمع میرے تئیں چور زخمی کیا اور لہولہان کر دیا۔"      ( ١٨٠٢ء، باغ و بہار، ١٥٧ ) ٦ - محو، مشغول، مصروف۔  رکھ تن کو مجاہدہ میں نت چور اور من کو مشاہدہ میں معمور      ( ١٦٦٣ء، میراں جی حق نما، رسالہ نورنین، ٤٢ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'چورنن' سے ماخوذ 'چور' اردو میں بطور صفت مستعمل ہے گاہے اسم بھی استعمال ہوتا ہے۔ ١٥١٨ء کو "لطفی (اردو، کراچی)" میں مستعمل ہے۔

مثالیں

١ - ریزہ ریزہ، ٹکڑے ٹکڑے۔ "نصیر نے گلاس خالی کر کے برج موہن کے گلاس پر دے مارا، دونوں ایک چھناکے کے ساتھ چور ہو گئے۔"      ( ١٩٥٤ء، شاید کہ بہار آئی، ٢٦ ) ٢ - مست، سرشار، غرق، محو، منہمک۔ "ایک بہت ہی ذہین و عالم ہے اور علم کے غرور میں چور۔"      ( ١٩١٣ء، تمدن ہند، ١٣٨ ) ٤ - نڈھال، کمزور، تھکا ماندہ۔ "وہ سرنگا پٹم کے دروازے پر زخموں سے چور نقش بے جاں ہو کر گرا۔"      ( ١٩٤٦ء، شیرانی، مقالات، ١٨ ) ٥ - بہت زیادہ، حد درجہ۔ "ان دونوں بے رحموں نے بخاطر جمع میرے تئیں چور زخمی کیا اور لہولہان کر دیا۔"      ( ١٨٠٢ء، باغ و بہار، ١٥٧ )

اصل لفظ: چورنن
جنس: مذکر