چونچ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - پرندے کا منہ، منقار۔ "اس جگہ پر وہ جفت اور زنبور داخل کی جائیں جن کے اطراف اس چڑیا کی چونچ کی طرح ہوتے ہیں جس کو کرمہ کہتے ہیں"      ( ١٩٤٧ء، جراحیات زہراوی، ٦٨ ) ٢ - انسان کا منہ وہاں؛ زبان، جیبھ (بطور طنز و تحقیر)۔  خورد ونوش ان میں ہے افزوں تو اسی قوت سے لوگ سچ کہتے ہیں چونچ انکی ہے چنگال ان کا      ( ١٩٢١ء، اکبر، کلیات، ٩:٤ ) ٣ - نوک، سرا۔ "شیشے کی ایک ٹیوب جو دونوں طرف کھلی ہوتی ہے، سیدھی کھڑی کی جاتی ہے نچلی سرے کی چونچ نکلی ہوتی ہے"      ( ١٩٦٧ء، آواز، ٤٧٣ ) ٥ - کھراد کا نکیلا آہنی کیلا جو ایک مڈّی میں تیر بند جڑا ہوا کاری گر کے بائیں ہاتھ کی طرف رہتا ہے۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 173:1) ٦ - جھڑپ، تنازع، لفظی۔ "دو دو چونچیں ہو گئیں"      ( ١٨٩٥ء، فرہنگ آصفیہ، ١٣١:٢ ) ٧ - بے وقوف، احمق۔ "آپ بھی نرے چونچ ہی رہے کوئی جنٹلمین سگار سگرٹ آدھے سے آگے بھی پیتا ہے۔"      ( ١٩١٤ء، راج دلاری، ٣٠ ) ٨ - ایک بوٹی جو دواؤں میں استعمال ہوتی ہے۔ "متویلگ: ایک درخت ہے . اس کی دو قسمیں ہیں خرد کلاں، بعض اس کو بوٹی خیال کرتے ہیں جو چونچ کے نام سے مشہور ہے کیونکہ چہرے کی شکل کے بہت مطابق ہے"      ( ١٩٢٦ء، خزائن الادویہ، ٢٢٠:٦ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'چنچہ' سے ماخوذ 'چونچ' ہے اردو میں بطور اسم مستعمل ہے سب سے پہلے ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پرندے کا منہ، منقار۔ "اس جگہ پر وہ جفت اور زنبور داخل کی جائیں جن کے اطراف اس چڑیا کی چونچ کی طرح ہوتے ہیں جس کو کرمہ کہتے ہیں"      ( ١٩٤٧ء، جراحیات زہراوی، ٦٨ ) ٣ - نوک، سرا۔ "شیشے کی ایک ٹیوب جو دونوں طرف کھلی ہوتی ہے، سیدھی کھڑی کی جاتی ہے نچلی سرے کی چونچ نکلی ہوتی ہے"      ( ١٩٦٧ء، آواز، ٤٧٣ ) ٦ - جھڑپ، تنازع، لفظی۔ "دو دو چونچیں ہو گئیں"      ( ١٨٩٥ء، فرہنگ آصفیہ، ١٣١:٢ ) ٧ - بے وقوف، احمق۔ "آپ بھی نرے چونچ ہی رہے کوئی جنٹلمین سگار سگرٹ آدھے سے آگے بھی پیتا ہے۔"      ( ١٩١٤ء، راج دلاری، ٣٠ ) ٨ - ایک بوٹی جو دواؤں میں استعمال ہوتی ہے۔ "متویلگ: ایک درخت ہے . اس کی دو قسمیں ہیں خرد کلاں، بعض اس کو بوٹی خیال کرتے ہیں جو چونچ کے نام سے مشہور ہے کیونکہ چہرے کی شکل کے بہت مطابق ہے"      ( ١٩٢٦ء، خزائن الادویہ، ٢٢٠:٦ )

اصل لفظ: چنچہ
جنس: مؤنث