چونچلا

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - نخرہ، غمزہ، ادا، ناز، لاڈ، پیار، اٹکھیلی، اتراہٹ، شان، ٹھاٹ۔ "ان سب چونچلوں کی کیا ضرورت تھی، ایک دن قاضی کو ساتھ کر کے ڈپٹی صاحب کو بھیج دیا ہوتا۔"      ( ١٩٣٩ء، شمع، ٧٥ ) ٢ - انداز، روش، طور، رکھ رکھاؤ۔ "اپنی فنی ریاضتوں میں تامل و تفکر کو زبان و بیان کے چونچلوں سے مقدم جانا ہے۔"      ( ١٩٧٩ء، زخم ہنر، ٩ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ صفت 'چنچل' کا تلفظ 'چونچال' کی تخفیف 'چونچل' کے ساتھ 'ا' بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے 'جونچلا' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨١٠ء کو "کلیاتِ میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - نخرہ، غمزہ، ادا، ناز، لاڈ، پیار، اٹکھیلی، اتراہٹ، شان، ٹھاٹ۔ "ان سب چونچلوں کی کیا ضرورت تھی، ایک دن قاضی کو ساتھ کر کے ڈپٹی صاحب کو بھیج دیا ہوتا۔"      ( ١٩٣٩ء، شمع، ٧٥ ) ٢ - انداز، روش، طور، رکھ رکھاؤ۔ "اپنی فنی ریاضتوں میں تامل و تفکر کو زبان و بیان کے چونچلوں سے مقدم جانا ہے۔"      ( ١٩٧٩ء، زخم ہنر، ٩ )

اصل لفظ: چونْچال
جنس: مذکر