چوچلا
معنی
١ - ناز وغمزہ؛ چھیڑ چھاڑ کا انداز، رنگ ڈھنگ، انداز عاشقی، اتراہٹ۔ بوسہ مانگا تو ہنس کے کہنے لگے نیا سیکھا ہے چوچلا اب تو ( ١٩٠٥ء، دیوان انجم، ١١٩ ) ٢ - لاڈ پیار۔ "ہلکا سا بخار تھا مگر امیری کے چوچلے ان کے لیے وہ بھی بڑا خطرناک تھا" ( ١٨٩٩ء، رویائے صادقہ، ٣٧ ) ٣ - ظرافت، بانکپن، دل لگی، خوش مزاجی۔ "ایک راجستھانی کبت . ایک تمدنی چوچلے ایک نرالے اسلوب بیاں کی حیثیت سے بہت پر لطف ہے" ( ١٩٦١ء، اردو زبان اور اسالیب، ١٩٩ ) ٤ - سوانگ، بہروپ۔ فقرو شاہی بہم ہے دیکھو یہاں یہ فقیرانہ چوچلہ ہے اور ( ١٨٥٦ء، کلیات ظفر، ٤٨:٤ ) ٥ - شوق، نمود، بناوٹ، دکھلاوا، نمائش۔ "ایسا ہی دینے کا ارمان اور امیری کے چوچلے ہیں تو ڈھنگ کی چیزیں دیں" ( ١٩١٠ء، لڑکیوں کی انشا، ١٠ )
اشتقاق
سنسکرت زبان کے لفظ 'چودی+ل+کہ' سے ماخوذ 'چوچلا' اردو میں بطور اسم مستعمل ہے ١٧١٨ء کو "دیوان آبرو" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - لاڈ پیار۔ "ہلکا سا بخار تھا مگر امیری کے چوچلے ان کے لیے وہ بھی بڑا خطرناک تھا" ( ١٨٩٩ء، رویائے صادقہ، ٣٧ ) ٣ - ظرافت، بانکپن، دل لگی، خوش مزاجی۔ "ایک راجستھانی کبت . ایک تمدنی چوچلے ایک نرالے اسلوب بیاں کی حیثیت سے بہت پر لطف ہے" ( ١٩٦١ء، اردو زبان اور اسالیب، ١٩٩ ) ٥ - شوق، نمود، بناوٹ، دکھلاوا، نمائش۔ "ایسا ہی دینے کا ارمان اور امیری کے چوچلے ہیں تو ڈھنگ کی چیزیں دیں" ( ١٩١٠ء، لڑکیوں کی انشا، ١٠ )