چوڑا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - عریض، عرض والا، کشادہ، وسیع۔  کتنے چوڑے سینوں میں ایک سرے سے دل ہی نہیں      ( ١٩٧٩ء، جزیرہ، ٧٥ ) ٢ - تباہ، برباد، چھوٹا ہوا، جنگل میں کھلی جگہ۔ "ایک جنگل دکھلائی دیتا ہے تہاں درخت کا نانو نہیں چوڑا کف دست پڑا ہے"      ( ١٧٤٦ء، قصہ مہر افروز و دلبر، ٩٤ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'چتر' کی تخفیفی شکل 'چو' کے ساتھ 'ڑا' بطور لاحقۂ نسبت و صفت لگانے سے اردو میں 'چوڑا' بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - تباہ، برباد، چھوٹا ہوا، جنگل میں کھلی جگہ۔ "ایک جنگل دکھلائی دیتا ہے تہاں درخت کا نانو نہیں چوڑا کف دست پڑا ہے"      ( ١٧٤٦ء، قصہ مہر افروز و دلبر، ٩٤ )

جنس: مذکر