چوکنا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - غلطی کرنا، خطا کرنا، قصور کرنا؛ نشانہ اوکنا؛ فریب میں آنا۔  ان کا نہ کبھی کوئی نشانہ چوکا شیطان ہے ان کے آگے ننگا بھوکا      ( ١٩٤٧ء، سنبل و سلاسل، ٢٥٩ ) ٢ - بھولنا۔  خدا کے فضل یہ تھا اعتماد کیا غم تھا اگر میں چوک بھی جاتا وہ پاسباں ہوتا      ( ١٩٣٢ء، بے نظیر، کلام بے نظیر، ١٢ ) ٣ - بھٹکنا۔ "قدم ایسا سیدھا پڑتا ہے کہ راستہ نہیں چوکتا"      ( ١٩٠٩ء، صلائے عام، اپریل،٦ ) ٤ - باز آنا، باز رہنا۔ "یعنی ہاتھ کی صفائی سے بھی نہیں چوکتے اور ہارے پر برہم بھی بہت ہوتے ہیں"      ( ١٩٨١ء، آسمان کیسے کیسے،٢٢٩ ) ٥ - پس و پیش کرنا، موقع کھو دینا۔ "چوکو نہیں آنکھ بند کرکے بیٹی دے دو"      ( ١٩٣٣ء، فراق دہلوی، لال قلعے کی ایک جھلک، ٤ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'چیت+کر' سے ماخوذ 'چوکنا' بنا۔ اردو میں بطور مصدر مستعمل ہے۔ ١٥٩١ء کو "وصیت الہادی (ق)" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - بھٹکنا۔ "قدم ایسا سیدھا پڑتا ہے کہ راستہ نہیں چوکتا"      ( ١٩٠٩ء، صلائے عام، اپریل،٦ ) ٤ - باز آنا، باز رہنا۔ "یعنی ہاتھ کی صفائی سے بھی نہیں چوکتے اور ہارے پر برہم بھی بہت ہوتے ہیں"      ( ١٩٨١ء، آسمان کیسے کیسے،٢٢٩ ) ٥ - پس و پیش کرنا، موقع کھو دینا۔ "چوکو نہیں آنکھ بند کرکے بیٹی دے دو"      ( ١٩٣٣ء، فراق دہلوی، لال قلعے کی ایک جھلک، ٤ )

اصل لفظ: چیت+کر