چٹا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - اُجلا، سفید، صاف۔ "اس شان و شوکت کا وجود، اور آدمی جیسے گورے چٹے خوش وضع پیاری ادا کی دشمنی!"      ( ١٩٢١ء، لڑائی کا گھر، ٣٥ ) ٢ - [ مجازا ]  روپیہ، دلال وغیرہ بولتے ہیں اور بانوا کوڑا اور عوام روپیہ پیسہ کہتے ہیں۔ "بابا سیفو ایک آدھ چٹا اس فقیر کو دلوا۔"      ( ١٨٠٢ء نفلیات، ٤٩ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'چِتَر + کہ' سے ماخوذ ہے اور اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٠٢ء میں "نفلیات" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اُجلا، سفید، صاف۔ "اس شان و شوکت کا وجود، اور آدمی جیسے گورے چٹے خوش وضع پیاری ادا کی دشمنی!"      ( ١٩٢١ء، لڑائی کا گھر، ٣٥ ) ٢ - [ مجازا ]  روپیہ، دلال وغیرہ بولتے ہیں اور بانوا کوڑا اور عوام روپیہ پیسہ کہتے ہیں۔ "بابا سیفو ایک آدھ چٹا اس فقیر کو دلوا۔"      ( ١٨٠٢ء نفلیات، ٤٩ )

اصل لفظ: چِتَر+کِہ
جنس: مذکر