چٹاخ
معنی
١ - داغ، دھبے۔ "جب وہ صبح سو کر اٹھتا تو اس کے چہرے پر میلے رنگ کے چٹاخ ایسے معلوم ہوتے جیسے - بارود تھوک گئے ہوں۔" ( ١٩٧٣ء، جہان دانش، ٨٦ ) ٢ - نشان، سلوٹیں۔ "رات بھر نیند نہ آئی سوچتا اور کروٹیں بدلتا رہا ننگی چارپائی، جسم پر چٹاخ پڑ گئے۔" ( ١٩٧٢ء، بوئے گل نالۂ دل دود چراغ محفل، ١٥٧ )
اشتقاق
سنسکرت زبان کے لفظ'چپ' سے ماخوذ اردو میں چٹاخ بنا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٧٢ء، میں "بوئے گل نالۂ دل دود چراغ محفل" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - داغ، دھبے۔ "جب وہ صبح سو کر اٹھتا تو اس کے چہرے پر میلے رنگ کے چٹاخ ایسے معلوم ہوتے جیسے - بارود تھوک گئے ہوں۔" ( ١٩٧٣ء، جہان دانش، ٨٦ ) ٢ - نشان، سلوٹیں۔ "رات بھر نیند نہ آئی سوچتا اور کروٹیں بدلتا رہا ننگی چارپائی، جسم پر چٹاخ پڑ گئے۔" ( ١٩٧٢ء، بوئے گل نالۂ دل دود چراغ محفل، ١٥٧ )