چٹخنی

قسم کلام: اسم آلہ

معنی

١ - دروازے کے کواڑوں کو اندر سے بند رکھنے کا کھٹکا۔ "زیادہ وقت نہیں گزرے گا جب یہ اس قابل ہو جائے گی کہ سیدھی چٹخنی کی طرف جائے اور اس کو فوراً کھول لے۔"      ( ١٩٦٣ء، تجزیۂ نفس، ٦٤ ) ٢ - وہ کاٹنا جو پنجرے میں پرند کو پکڑنے کے لیے لگاتے ہیں، پھٹکی۔ "نہ کوئی جال میں گرفتار ہو کر مارا گیا، نہ کوئی چٹخنی میں پھنس کر زخمی یا قید ہوا۔"      ( ١٩٠١ء، زلفی، ٤٩ )

اشتقاق

ہندی زبان سے ماخوذ لفظ کے ساتھ'نی' لاحقۂ تانیث و تصغیر لگانے سے 'چٹخنی' بنا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٠١ء میں زلفی کے ہاں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دروازے کے کواڑوں کو اندر سے بند رکھنے کا کھٹکا۔ "زیادہ وقت نہیں گزرے گا جب یہ اس قابل ہو جائے گی کہ سیدھی چٹخنی کی طرف جائے اور اس کو فوراً کھول لے۔"      ( ١٩٦٣ء، تجزیۂ نفس، ٦٤ ) ٢ - وہ کاٹنا جو پنجرے میں پرند کو پکڑنے کے لیے لگاتے ہیں، پھٹکی۔ "نہ کوئی جال میں گرفتار ہو کر مارا گیا، نہ کوئی چٹخنی میں پھنس کر زخمی یا قید ہوا۔"      ( ١٩٠١ء، زلفی، ٤٩ )

اصل لفظ: چَٹَخْ
جنس: مؤنث