چپچپانا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - لیس دار ہونا، چپکنا، چپک پائی جانا، چپکدار ہونا۔ "ان مے آلودہ ہونٹوں سے اس کے گال چپچپا جاتے تھے"      ( ١٩٤٣ء، تائیس، ١٠٤ )

اشتقاق

سنسکرت میں لفظ 'پچ یا پچھ' کی تکرار سے 'پچپچا' بنا اور اردو میں 'چپچپا' مستعمل ہوا اور 'نا' لاحقۂ مصدر لگانے 'چپچپانا' بنا اور بطور فعل استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٤٣ء میں "تائیس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - لیس دار ہونا، چپکنا، چپک پائی جانا، چپکدار ہونا۔ "ان مے آلودہ ہونٹوں سے اس کے گال چپچپا جاتے تھے"      ( ١٩٤٣ء، تائیس، ١٠٤ )

اصل لفظ: پِچْپِچا