چڑچڑاہٹ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - چڑ چڑاپن۔ "لیکن اس میں سب سے زیادہ ضروری چیز یہ ہے کہ لب و لہجہ میں بے زاری چڑ چڑاہٹ اور جھنجھلاہٹ نہ پیدا ہو"      ( ١٩٦٨ء، نگاہ اور نقطے، ٢٦٤ )

اشتقاق

اردو زبان کے لفظ 'چڑ چڑ' کے ساتھ 'ا' لاحقۂ صفت لگانے سے 'چڑ چڑا' بنا اور 'ہٹ' لاحقہ کیفیت لگانے سے 'چڑچڑاہٹ' بنا اور اردو میں بطور اسم مستعمل ہے ١٨١٨ء میں "دیوان اظفری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - چڑ چڑاپن۔ "لیکن اس میں سب سے زیادہ ضروری چیز یہ ہے کہ لب و لہجہ میں بے زاری چڑ چڑاہٹ اور جھنجھلاہٹ نہ پیدا ہو"      ( ١٩٦٨ء، نگاہ اور نقطے، ٢٦٤ )

اصل لفظ: چڑچڑ
جنس: مؤنث