چکلا
معنی
١ - چوڑا، پھیلا ہوا (طول و عرض میں)۔ "ایک بڑا اونچا اور بڑا چوڑا چکلا اور بہت ہی بدشکل پلنگ بچھا ہوا ہے۔" ( ١٩٦٢ء، کائنات بیتی، ٢٧ ) ١ - مدور، گول، گھیرا، دائرہ نما، برتن پتھر یا لکڑی کا دائرہ نما ٹکڑا، چکی کایاٹ۔ "طوق میں . کوئی میخ وغیرہ ایسی جو ذقن میں جاکر اڑے جاوے اور یا طوق کا چکلا ایسا ہو اس کی کگر ذقن میں اڑ جاوے۔" ( ١٩٧٦ء، معارف القرآن، ٢٦١:٧ ) ٢ - صوبے کا ایک چھوٹا حصہ، تعلقہ، تحصیل، ضلع۔ "یہ اودھ کی حکومت کا ایک چکلہ (ضلع) بنا گیا۔" ( ١٩٤٣ء، حیات شبلی، ٥٤ ) ٣ - بازاری عورتوں کا اڈا، کسبی خانہ، عصمت فروشی کا اڈا۔ "کہاں سے کھائیں گے، کیا اب چکلے میں دلالی کریں گے۔" ( ١٩١٠ء، خواب ہستی، ١١٢ ) ٤ - [ مؤنث ] جوتی، چرن، چپل۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 219:2)
اشتقاق
سنسکرت کے اصل لفظ 'چکر+ل+کہ' سے ماخوذ 'چکلا' اردو میں بطور صفت اور گاہے بطور اسم بھی استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٧٠ء کو "الماس درخشاں" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - چوڑا، پھیلا ہوا (طول و عرض میں)۔ "ایک بڑا اونچا اور بڑا چوڑا چکلا اور بہت ہی بدشکل پلنگ بچھا ہوا ہے۔" ( ١٩٦٢ء، کائنات بیتی، ٢٧ ) ١ - مدور، گول، گھیرا، دائرہ نما، برتن پتھر یا لکڑی کا دائرہ نما ٹکڑا، چکی کایاٹ۔ "طوق میں . کوئی میخ وغیرہ ایسی جو ذقن میں جاکر اڑے جاوے اور یا طوق کا چکلا ایسا ہو اس کی کگر ذقن میں اڑ جاوے۔" ( ١٩٧٦ء، معارف القرآن، ٢٦١:٧ ) ٢ - صوبے کا ایک چھوٹا حصہ، تعلقہ، تحصیل، ضلع۔ "یہ اودھ کی حکومت کا ایک چکلہ (ضلع) بنا گیا۔" ( ١٩٤٣ء، حیات شبلی، ٥٤ ) ٣ - بازاری عورتوں کا اڈا، کسبی خانہ، عصمت فروشی کا اڈا۔ "کہاں سے کھائیں گے، کیا اب چکلے میں دلالی کریں گے۔" ( ١٩١٠ء، خواب ہستی، ١١٢ )