چکنا

قسم کلام: صفت ذاتی ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - جس میں تیل یا چکنائی وغیرہ زیادہ ہو، روغنی، تیلیا؛ مرغن۔ "چکنا شوربا اور چاول مکھن یا دودھ کے ساتھ کھائیں۔"      ( ١٩٢٦ء، خزائن الادویہ، ٤٥٥:٢ ) ٢ - موٹا، فربہ، چربی دار۔ (نوراللغات) ٣ - پھسلواں؛ وارنش کیا ہوا، روغن سے چمکایا ہوا، چمکیلا۔  کرتا تھا دنیا کا نظارہ چکنا تھا چھجے کا کنارا      ( ١٩٨٥ء، پھول کھلے ہیں رنگ برنگے، ١٧ ) ٤ - صاف، ستھرا؛ ہموار، یکساں (کھردرے کی ضد)۔ "ترشے پتھروں کے چہرے بعض اوقات چکنے رکھے جاتے ہیں اور بعض اوقات کھردرے۔"      ( ١٩٤٧ء، رسالہ رڑکی چنائی، ٣٣ ) ٥ - خوبصورت؛ بارونق؛ تر و تازہ، اچھا۔ "کوڑ آدمی اوپر چکنا دستاد رونے میں سب روکھا۔"      ( ١٦٣٥ء، سب رس، ١١٠ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'چِکّنا' سے ماخوذ اردو میں 'چکنا' بنا اور اردو میں بطور اسم صفت کے مستعمل ہے۔ ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جس میں تیل یا چکنائی وغیرہ زیادہ ہو، روغنی، تیلیا؛ مرغن۔ "چکنا شوربا اور چاول مکھن یا دودھ کے ساتھ کھائیں۔"      ( ١٩٢٦ء، خزائن الادویہ، ٤٥٥:٢ ) ٤ - صاف، ستھرا؛ ہموار، یکساں (کھردرے کی ضد)۔ "ترشے پتھروں کے چہرے بعض اوقات چکنے رکھے جاتے ہیں اور بعض اوقات کھردرے۔"      ( ١٩٤٧ء، رسالہ رڑکی چنائی، ٣٣ ) ٥ - خوبصورت؛ بارونق؛ تر و تازہ، اچھا۔ "کوڑ آدمی اوپر چکنا دستاد رونے میں سب روکھا۔"      ( ١٦٣٥ء، سب رس، ١١٠ )

اصل لفظ: چِکّنا