چکھانا
قسم کلام: فعل متعدی
معنی
١ - ذائقہ کے لیے تھوڑا سا کھلانا، لذت، دلانا؛ مزا معلوم کرنے کے لیے ذرا سا کھلانا۔ حسرت ہے تو چکھا دے محبت کی چاشنی برسوں سے اس ہوس میں کھلا ہے دہان دل ( ١٨٩٦ء، دیوان شرف، ١٤٤ ) ٢ - کھلانا، پلانا، نوش کرانا؛ تجربہ سے گزارنا، واقف کرنا۔ کچھ چکھانے کو اس کے مال تو ہو نہ ہو سالن چنے کی دال تو ہو ( ١٨٨٩ء، دیوان عنایت و سفلی، ٦٦ )
اشتقاق
سنسکرت زبان کے لفظ'چش' سے ماخوذ مصدر 'چکھنا' سے فعل متعدی 'چکھانا' بنا۔ ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: چش