چکھنا

قسم کلام: فعل متعدی

معنی

١ - کسی چیز کو زبان پر رکھنا، چاشنی دیکھنا، چکھنے کا عمل، ذائقہ لینا۔ "چکھنے کے لیے زبان چھونے کے لیے جلد بدن۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١٠٣:١ ) ٢ - کھانا، پینا، نوش کرنا۔ "اگر تم بھوکے ہو تو ہمارا خیال نہ رکھو مزے سے چکھو۔"      ( ١٨٩٢ء، خدائی فوجدار، ٤٧:١ ) ٣ - لذت اٹھانا، مزہ لینا۔  کہاں کا زہد کیسا اتقا عہد جوانی میں اگر سمجھو تو آؤ تم بھی چکھو ہم بھی پیتے ہیں      ( ١٩٨٣ء، منشور واحدی، سلک شبنم، ٤٨ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ'چش' سے ماخوذ اردو میں بطور فعل 'چکھنا' مستعمل ہے۔ ١٦٤٠ء کو "کشف الوجود (قدیم اردو)" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کسی چیز کو زبان پر رکھنا، چاشنی دیکھنا، چکھنے کا عمل، ذائقہ لینا۔ "چکھنے کے لیے زبان چھونے کے لیے جلد بدن۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١٠٣:١ ) ٢ - کھانا، پینا، نوش کرنا۔ "اگر تم بھوکے ہو تو ہمارا خیال نہ رکھو مزے سے چکھو۔"      ( ١٨٩٢ء، خدائی فوجدار، ٤٧:١ )

اصل لفظ: چش