چگانا

قسم کلام: فعل متعدی

معنی

١ - پرندوں کو دانہ کھلانا، پرندوں کا ان کے کھانے کی چیزوں سے پیٹ بھرانا۔ "صبح و شام انہیں دیمک چگانے کہیں باہر لے جاتے تو باری باری سے انہیں کھولتے۔"      ( ١٩٦٢ء، ساقی، کراچی، جولائی، ٤٣ ) ٢ - [ مجازا ]  بھرنا، کانا پھوسی کرنا؛ ورغلانا، جھوٹی سچی باتیں لگانا۔ "خدمتگار چست و چالاک آیا، سرداران لشکر صمصام کو چگانے لگا۔"      ( ١٨٩١ء، طلسم ہوش ربا، ١٦٢:٥ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ'چوڑن + کر' سے ماخوذ مصدر 'چگنا' سے فعل متعدی 'چگانا' بنا۔ ١٧٧٥ء کو "نوطرز مرصع" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پرندوں کو دانہ کھلانا، پرندوں کا ان کے کھانے کی چیزوں سے پیٹ بھرانا۔ "صبح و شام انہیں دیمک چگانے کہیں باہر لے جاتے تو باری باری سے انہیں کھولتے۔"      ( ١٩٦٢ء، ساقی، کراچی، جولائی، ٤٣ ) ٢ - [ مجازا ]  بھرنا، کانا پھوسی کرنا؛ ورغلانا، جھوٹی سچی باتیں لگانا۔ "خدمتگار چست و چالاک آیا، سرداران لشکر صمصام کو چگانے لگا۔"      ( ١٨٩١ء، طلسم ہوش ربا، ١٦٢:٥ )

اصل لفظ: چوڑن+کر