چھاؤں

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - سایہ، چھاں، عکس، پرتو۔  چھاؤں میں آ گئے جھلستے لوگ رائگاں محنت شجر نہ ہوئی      ( ١٩٧٩ء، زخم ہنر، ١٨٨ ) ٢ - دو چیزوں کے درمیان خفیف مشابہت۔ "تعمیم کی چھاؤں مضمون پر نہیں پڑتی۔"      ( ١٩٢٦ء، نوراللغات، ٥٥٧:٢ ) ٣ - کرن، روشنی (عموماً تاروں کے ساتھ مستعمل)۔  چھاؤں میں تاروں کی گل تر کا مہکنا وہ جھومنا سبزہ کا وہ کھیتوں کا لہکنا      ( ١٩٢٠ء، روح ادب، ٢٥ ) ٤ - پناہ حمایت، سرپوشی۔  صد ہزاراں شکر جو ہے سکھ سوں اس کی چھاؤں میں بندہ ہور آزاد ہور شہری غریب ہور شیخ و شاب      ( ١٦٧٨ء، غواصی، کلیات، ٤٠ ) ٥ - جھلک، اثر۔ "بھلے کو اس نے خود پرانی جان پہچان کی چھاؤں نہ آنے دی۔"      ( ١٩٣٩ء، محمد علی ردولوی، گناہ کا خوف، ٤ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ 'چھایا' کا ایک تلفظ 'چھاؤں' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٠٣ء کو "نوسرہار (اردو ادب)" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - دو چیزوں کے درمیان خفیف مشابہت۔ "تعمیم کی چھاؤں مضمون پر نہیں پڑتی۔"      ( ١٩٢٦ء، نوراللغات، ٥٥٧:٢ ) ٥ - جھلک، اثر۔ "بھلے کو اس نے خود پرانی جان پہچان کی چھاؤں نہ آنے دی۔"      ( ١٩٣٩ء، محمد علی ردولوی، گناہ کا خوف، ٤ )

جنس: مؤنث