چھاتی
معنی
١ - گردن کے نیچجے سے لے کر پیٹ تک جسم کا اگلا حصہ، سینہ، صدر۔ "ایک بچہ اس کی چھاتی سے چمٹا مردہ تھن چوس رہا ہے۔" ( ١٩٤٥ء، موت سے پہلے، ٨ ) ٢ - سینے کی اندرونی سطح، پسلیاں۔ "دلی میں . شدت سے نزلہ کا انصباب چھاتی پر ہوا۔" ( ١٩٠٣ء، مکتوبات حالی، ٦٧:٢ ) ٣ - عورت کے سینے کا ابھرا ہوا بٹنی دار حصہ (جس سے بچہ دودھ پیتا ہے) پستان، چوچی، تھن۔ "وہ خون دودھ . کی طرف تبدیل ہو جاتا ہے جیسا کہ چھاتیوں . میں ہوا کرتا ہے۔" ( ١٩٣٦ء، ترجمہ شرح اسباب، ٣١١:٢ ) ٤ - جرآت، حوصلہ، ہمت۔ بیان کرنے کو کس کی چھاتی لاؤں، دل میں طاقت نہیں۔" ( ١٩٢٨ء، پس پردہ، ١٢٣ )
اشتقاق
سنسکرت زبان کے لفظ'چھتّر + ایکا' سے ماخوذ 'چھاتی' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٥٠٣ء کو "نوسرہار (اردو ادب)" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - گردن کے نیچجے سے لے کر پیٹ تک جسم کا اگلا حصہ، سینہ، صدر۔ "ایک بچہ اس کی چھاتی سے چمٹا مردہ تھن چوس رہا ہے۔" ( ١٩٤٥ء، موت سے پہلے، ٨ ) ٢ - سینے کی اندرونی سطح، پسلیاں۔ "دلی میں . شدت سے نزلہ کا انصباب چھاتی پر ہوا۔" ( ١٩٠٣ء، مکتوبات حالی، ٦٧:٢ ) ٣ - عورت کے سینے کا ابھرا ہوا بٹنی دار حصہ (جس سے بچہ دودھ پیتا ہے) پستان، چوچی، تھن۔ "وہ خون دودھ . کی طرف تبدیل ہو جاتا ہے جیسا کہ چھاتیوں . میں ہوا کرتا ہے۔" ( ١٩٣٦ء، ترجمہ شرح اسباب، ٣١١:٢ ) ٤ - جرآت، حوصلہ، ہمت۔ بیان کرنے کو کس کی چھاتی لاؤں، دل میں طاقت نہیں۔" ( ١٩٢٨ء، پس پردہ، ١٢٣ )