چھال
معنی
١ - درخت کی لکڑی کے اوپر کا پوست، بکّل۔ "جنس میاسٹر (Miaster) سروی حالت میں درختوں کی چھال کے نیچے رہتی ہے۔" ( ١٩٧١ء، حشریات، ١٠٨ ) ٢ - کھال، کسی جسم کے اوپر کا خول یا پوست، پرت۔ "اور ایمان کی چھال سوشرم . ہے۔" ( ١٨١٠ء، چونسٹھ گھر، ١٨ ) ٣ - چمڑا۔ "نیل بڑی پھٹکری . پرانی جوتی کی انتر چھال، خرمے کی چوتھائی۔" ( ١٧٠٣ء، جنگ نامہ بنگی خان پوستی (اردونامہ، کراچی)، ١٧:٤٩ ) ٤ - چھلکا۔ کیلا : پختہ پھل کھانے والی اقسام میں . لاکھی بالا، ہری چھال . امرت ساگر مشہور ہیں۔" ( ١٩٧٠ء، گھریلو انسائیکلوپیڈیا، ٤٤٢ )
اشتقاق
سنسکرت زبان کے لفظ 'چھلی' سے ماخوذ چھال بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٧٢ء کو "کلیات شاہی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - درخت کی لکڑی کے اوپر کا پوست، بکّل۔ "جنس میاسٹر (Miaster) سروی حالت میں درختوں کی چھال کے نیچے رہتی ہے۔" ( ١٩٧١ء، حشریات، ١٠٨ ) ٢ - کھال، کسی جسم کے اوپر کا خول یا پوست، پرت۔ "اور ایمان کی چھال سوشرم . ہے۔" ( ١٨١٠ء، چونسٹھ گھر، ١٨ ) ٣ - چمڑا۔ "نیل بڑی پھٹکری . پرانی جوتی کی انتر چھال، خرمے کی چوتھائی۔" ( ١٧٠٣ء، جنگ نامہ بنگی خان پوستی (اردونامہ، کراچی)، ١٧:٤٩ ) ٤ - چھلکا۔ کیلا : پختہ پھل کھانے والی اقسام میں . لاکھی بالا، ہری چھال . امرت ساگر مشہور ہیں۔" ( ١٩٧٠ء، گھریلو انسائیکلوپیڈیا، ٤٤٢ )