چھالا
معنی
١ - آبلہ، پھیولا، تپ خالہ۔ "اسٹول پر میرا پاؤں رکھ کر چھالا پنکچر کیا . پٹی کر دی۔" ( ١٩٧٦ء، بوئے گل، ٧٧ ) ٢ - زہر کی تھیلی جو سانپوں کے منہ میں ہوتی ہے۔ بس بن گئے ہیں سانپ کے چھالے کا وہ آنسو بھر بھر کے جو آنکھوں کے کٹوروں میں پیے تھے ( ١٩٣٨ء، سریلی بانسری، ١٠٦ ) ٣ - تلوار وغیرہ کے لوہے یا شیشے وغیرہ کا دھبا، بال یا میل وغیرہ کا ابھرا ہوا نشان یا دانہ۔ ہے امڈا ہوا جی کہ پتھر کا چھالا نہ کب تک رسے گا نہ کب تک بہے گا ( ١٩٣٨ء، سریلی بانسری، ٢٠ ) ٥ - کسی سیال چیز کے مسلسل رسنے ابلنے اور ٹپکنے کی کیفیت جیسے آنسو کا چھالا۔ یہ آنکھ اپنی ساون ہے وہ آنکھ بھادوں ٹپاٹپ ہے آنسو کی، پانی کا چھالا ( ١٩٣٨ء، سریلی بانسری، ٢٦ ) ٦ - کھال، پوست؛ کھال کا سلا یا بے سلا لبادہ وغیرہ، پوستین۔ زندہ جو یہ ہاتھ آیا تو شوق سے پالوں گی مردہ جو ملا تو پھر چھالا ہی بنا لوں گی۔ ( ١٩٢١ء، سیتارام، ٦١ )
اشتقاق
سنسکرت زبان کے لفظ 'چھلی' سے ماخوذ چھال بنا۔ الف بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے 'چھالا' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٢٥ء کو "بکٹ کہانی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - آبلہ، پھیولا، تپ خالہ۔ "اسٹول پر میرا پاؤں رکھ کر چھالا پنکچر کیا . پٹی کر دی۔" ( ١٩٧٦ء، بوئے گل، ٧٧ )