چھالیا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ایک درخت اور اس کا گول اوپر سے پھیلا نیچے سے کسی قدر گاؤ دم بڑے انگور سے کسی قدر بڑا اور پتھر کی طرح سخت پھل جسے سروتے سے ٹکڑے ٹکڑے کر کے پان میں ڈال کر چباتے ہیں، سپاری، ڈلی۔ "خاص قسم کے درختوں میں گرجن اور چھالیہ . ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٦٩ء، پاکستان کا حیوانی جغرافیہ، ٣٩ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'جھلہ' سے ماخوذ 'چھالیا' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٧٠ء کو "الماس درخشاں" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ایک درخت اور اس کا گول اوپر سے پھیلا نیچے سے کسی قدر گاؤ دم بڑے انگور سے کسی قدر بڑا اور پتھر کی طرح سخت پھل جسے سروتے سے ٹکڑے ٹکڑے کر کے پان میں ڈال کر چباتے ہیں، سپاری، ڈلی۔ "خاص قسم کے درختوں میں گرجن اور چھالیہ . ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٦٩ء، پاکستان کا حیوانی جغرافیہ، ٣٩ )

اصل لفظ: جھلہ
جنس: مؤنث