چھاننا

قسم کلام: اسم آلہ

معنی

١ - بڑے سوراخوں والی چھلنی، چھننا، چھلنا۔ "کچ دھات جیسی کہ کان وغیرہ سے موصول ہوتی ہے مناسب سوراخوں والے چھاننے (گرزلی) کے اوپر سے گزاری جاتی ہے۔"      ( ١٩٧٢ء، فولاد سازی، ٣٥ )

اشتقاق

ہندی زبان سے ماخوذ لفظ 'چھان' کے ساتھ 'نا' بطور لاحقۂ ظرف لگانے سے 'چھاننا' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٧٣ء کو "فولاد سازی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بڑے سوراخوں والی چھلنی، چھننا، چھلنا۔ "کچ دھات جیسی کہ کان وغیرہ سے موصول ہوتی ہے مناسب سوراخوں والے چھاننے (گرزلی) کے اوپر سے گزاری جاتی ہے۔"      ( ١٩٧٢ء، فولاد سازی، ٣٥ )

جنس: مذکر