چھاپا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - مہر جو کاغذات پر لگائی جاتی ہے نیز مہر پر کھدے ہوئے حروف۔ "جیسے کوئی اس لاکھ کو پھینک دیتا ہے جس پر چھاپہ ہو چکا ہو۔"      ( ١٩١٣ء، تمدن ہند، ٤١٦ ) ٢ - لکڑی یا دھات وغیرہ کا ٹکڑا جس پر بیل بوٹے نقش و نگار یا حروف وغیرہ چھاپنے کے لیے کندہ ہوں، ٹھپا۔ "باریک ڈیزائن کا چھاپہ استعمال کرنے سے سمٹی خوبصورت نہیں معلوم ہو گی۔"      ( ١٩٣٥ء، کپڑے کی چھپائی، ٢٥ ) ٣ - چھپائی، طباعت، چھاپے جانے کا کام (جو لکڑی وغیرہ کے ٹھپے سے ہو یا چھاپنے کی مشین سے)۔ "ہماری بدمذاقی . کوئی صحیح نقش نہیں دیکھتی اسے چھاپے کی خرابی کہیے یا نظر کی کوتاہی۔"      ( ١٩٢٤ء، اودھ پنچ، لکھنو، ٩، ٦:٤١ ) ٤ - چھاپہ خانہ، مطبع۔ "ان دنوں نہ کاغذ کی اتنی افراط تھی نہ چھاپے تھے۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١٤٧:٣ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'کشمپ' سے ماخوذ 'چھاپ' کے ساتھ الف بطور لاحقۂ لگانے سے 'چھاپا' بنا۔ اردو میں اسم مستعمل ہے۔ ١٧٤٦ء کو "قصہ مہر افروز و دلبر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مہر جو کاغذات پر لگائی جاتی ہے نیز مہر پر کھدے ہوئے حروف۔ "جیسے کوئی اس لاکھ کو پھینک دیتا ہے جس پر چھاپہ ہو چکا ہو۔"      ( ١٩١٣ء، تمدن ہند، ٤١٦ ) ٢ - لکڑی یا دھات وغیرہ کا ٹکڑا جس پر بیل بوٹے نقش و نگار یا حروف وغیرہ چھاپنے کے لیے کندہ ہوں، ٹھپا۔ "باریک ڈیزائن کا چھاپہ استعمال کرنے سے سمٹی خوبصورت نہیں معلوم ہو گی۔"      ( ١٩٣٥ء، کپڑے کی چھپائی، ٢٥ ) ٣ - چھپائی، طباعت، چھاپے جانے کا کام (جو لکڑی وغیرہ کے ٹھپے سے ہو یا چھاپنے کی مشین سے)۔ "ہماری بدمذاقی . کوئی صحیح نقش نہیں دیکھتی اسے چھاپے کی خرابی کہیے یا نظر کی کوتاہی۔"      ( ١٩٢٤ء، اودھ پنچ، لکھنو، ٩، ٦:٤١ ) ٤ - چھاپہ خانہ، مطبع۔ "ان دنوں نہ کاغذ کی اتنی افراط تھی نہ چھاپے تھے۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١٤٧:٣ )

جنس: مذکر