چھتیس

قسم کلام: صفت عددی ( واحد )

معنی

١ - گنتی میں تیس اور چھ کا مجموعہ، پینتیس کے بعد اور سینتیس سے پہلے، (ہندسوں میں) 36۔ "اورخان . چھتیس بحری جہازوں کے ساتھ قسطنطنیہ کے قریب اترنے کی کوشش کر چکا تھا۔"      ( ١٩٦٨ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٥٦٦:٣ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ 'چھ' کے ساتھ ہندی صفت عددی 'تیس' لگانے سے 'چھتیس' بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گنتی میں تیس اور چھ کا مجموعہ، پینتیس کے بعد اور سینتیس سے پہلے، (ہندسوں میں) 36۔ "اورخان . چھتیس بحری جہازوں کے ساتھ قسطنطنیہ کے قریب اترنے کی کوشش کر چکا تھا۔"      ( ١٩٦٨ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٥٦٦:٣ )