چھجا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - چھت روشندان یا کھڑکی سے آگے بڑھا ہوا حصہ جو بارش اور دھوپ کی روک کے لیے بنایا جاتا ہے۔  دیکھو تارے اب مت گرنا اچھا نہیں چھجوں پر پھرنا      ( ١٩٨٥ء، پھول کھلے ہیں رنگ برنگے، ١٩ ) ٢ - پگڑی، ٹوپی (خصوصاً ہیٹ) کا اگلا جو بارش یا دھوپ بے بچاؤ یا آرائش کے لیے بنایا جاتا ہے۔ "مقصود یہ ہو کہ اس کا چھجہ آنکھوں کو سورج کی کرنوں سے بچائے رکھے"      ( ١٩٢٥ء، معاشرت، ظفر علی خان، ٢٧ ) ٣ - برآمدہ، بالکونی "محرابی برآمدوں، چھجوں اور گوکھوں میں مہ لقائیں غارت گر ایمان و ہوش بنی بیٹھی تھیں"      ( ١٩٦٣ء، دلی کی شام، ١٥٢ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'چھد' سے ماخوذ 'چھاج' کی تخفیفی شکل 'چھج' کے ساتھ الف بطور لاحقہ نسبت لگانے سے 'چھجا' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - پگڑی، ٹوپی (خصوصاً ہیٹ) کا اگلا جو بارش یا دھوپ بے بچاؤ یا آرائش کے لیے بنایا جاتا ہے۔ "مقصود یہ ہو کہ اس کا چھجہ آنکھوں کو سورج کی کرنوں سے بچائے رکھے"      ( ١٩٢٥ء، معاشرت، ظفر علی خان، ٢٧ ) ٣ - برآمدہ، بالکونی "محرابی برآمدوں، چھجوں اور گوکھوں میں مہ لقائیں غارت گر ایمان و ہوش بنی بیٹھی تھیں"      ( ١٩٦٣ء، دلی کی شام، ١٥٢ )

اصل لفظ: چَھج
جنس: مذکر