چھری

قسم کلام: اسم آلہ

معنی

١ - بند نہ ہونے والا لمبا چاقو، چھوٹا چھرا؛ چھوٹی تلوار۔ "گوشت کو کبھی کبھی چھری سے کاٹ کر بھی کھاتے"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٢٠٣:٢ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'کشر + کہ' سے ماخوذ 'چھرا' کی الف ہٹا کر 'ی' بطور لاحقہ تصغیر لگانے سے 'چھری' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٣٥ء کو "مینا ستونتی (قدیم اردو)" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بند نہ ہونے والا لمبا چاقو، چھوٹا چھرا؛ چھوٹی تلوار۔ "گوشت کو کبھی کبھی چھری سے کاٹ کر بھی کھاتے"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٢٠٣:٢ )

جنس: مؤنث