چھریرا
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - اکہرے بدن کا، مایل بہ لاغری، دُبلا، اک تنہ۔ "ان کا جسم چھریرا، ورزش کرتے ہیں اور میلوں پیدل چلتے ہیں" ( ١٩٨٤ء، کیا قافلہ جاتا ہے، ٤٧ )
اشتقاق
سنسکرت زبان کے لفظ 'کشیت' سے ماخوذ 'چھیڑ' کی تخفیفی شکل 'چھر' کے ساتھ 'یرا' بطور لاحقہ صفت لگانے سے 'چھریرا' بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ملتا ہے۔ ١٨٨٠ء کو "فسانہ آزاد" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - اکہرے بدن کا، مایل بہ لاغری، دُبلا، اک تنہ۔ "ان کا جسم چھریرا، ورزش کرتے ہیں اور میلوں پیدل چلتے ہیں" ( ١٩٨٤ء، کیا قافلہ جاتا ہے، ٤٧ )
جنس: مذکر